Mera Libas Hai Tu Novel By Saima Bakhtiyar Episode 12
Mera Libas Hai Tu Novel By Saima Bakhtiyar Episode 12
آپ لوگوں نے عروہ کا سودا کر دیا۔ کیسے بھائی ؟ کیسے کر سکتےہیں آپ ایسا ؟
سچ آخر کار عیسٰی کے سامنے آ ہی گیا تھا اور اب وہ جو چیز ہاتھ لگتی اُسے توڑتا جا رہا تھا۔
عیسیٰ ۔ بند کرو تماشا ۔ ابان نے غصے سے اُسے روکا۔
تماشا۔۔۔۔تماشا تو آپ لوگوں نے لگایا ہے عروہ کا۔ کیسے اپنی بہن کو کِسی کے بھی حوالے کر سکتے ہیں آپ۔ عیسٰی نے ابان کی انکھوں میں آنکھیں ڈال کر انگار لہجے میں پوچھا۔
ایسے ہی کِسی کے حوالے نہیں کر دیا۔ نکاح کر کے رخصت کیا ہے اُسے۔ تمہیں بچانے کے لیے کرنا پڑا ھمیں ایسا ۔ ابان نے اُسے آئینہ دکھایا۔
نکاح ۔ اُن کی نظر میں کیا حیثیت ہوگی نکاح کی ۔ جو اپنا بدلا لینے کی غرض سے اُسے لے گئے ہیں۔ آپ ابھی بتائیں کون ہیں وہ لوگ۔ میں ابھی اسی وقت اُسے وہاں سے لاؤں گا۔ عیسٰی ایک پیر پر کھڑا ہو گیا ۔
ھوش سے کام لو عیسیٰ ۔ اب ہمارا عروہ سے کوئی تعلق نہیں ۔ تمہاری آزادی کے لیے وہ خود اپنی خوشی سے ساری کشتیاں جلا کر گئی ہے ۔ ویسے بھی یہاں بھی اُس کا کوئی مستقبل نہیں ۔ کیا تم نہیں جانتے بابا کتنی نفرت کرتے ہیں عروہ سے۔ ابان نے اُسے پیار سے سمجھانا چاہا۔
تو کیا میں اپنی بہن کو لا وارثوں کی طرح چھوڑ دو بھائی ۔ عیسٰی کے آنسو بہنے لگے۔
بس کچھ وقت صبر کر لو ۔ مجھے یقین ہے کوئی نہ کوئی بہتر راستہ نکل ہی آئے گا۔ ابان نے اُسے وہی تسلی دی جو وہ خود اپنے دل کو دے رہا تھا۔
نہیں بھائی ۔ یہ کچھ وقت کی بات نہیں ہے شاید زِندگی بھر کے لیے ہمیں صبر کرنا ہوگا۔ عیسٰی نا اُمید ہو گیا۔
ان سب ویب،بلاگ،یوٹیوب چینل اور ایپ والوں کو تنبیہ کی جاتی ہےکہ اس ناول کو چوری کر کے پوسٹ کرنے سے باز رہیں ورنہ ادارہ کتاب نگری اور رائیٹرز ان کے خلاف ہر طرح کی قانونی کاروائی کرنے کے مجاز ہونگے۔
Copyright reserved by Kitab Nagri
ناول پڑھنے کے لیے نیچے دیئے گئےامیجز پرکلک کریں 👇👇👇
پچھلی اقساط پڑھنے کے لیے نیچے دئیے لنک پر کلک کریں 👇👇👇
ناول پڑھنے کے بعد ویب کومنٹ بوکس میں اپنا تبصرہ پوسٹ کریں اور بتائیے آپ کو ناول
کیسا لگا ۔ شکریہ